میر تقی میر ( غزل)

آئی ہے اُس کے کُوچے سے ہوکر صبا کُچھ اور کیا سر میں خاک ڈالتی ہے اب ہَوا کُچھ اور تدبِیر دوستوں کی مجھے نفع کیا کرے بیماری اور کُچھ ہے، کریں ہیں دوا کُچھ اور مستان ِعِشق و اہلِ خرابات میں ہے فرق مے خوارگی کُچھ اور ہے یہ ، نشّہ تھا کُچھ اور …مزید پڑھیں

امیر مینائی ( غزل)

نِیم جاں چھوڑ گئی نِیم نِگاہی تیری زندگی تا صد و سی سال الٰہی تیری ناز نیرنگ پہ، اے ابلقِ ایّام نہ کر نہ رہے گی یہ سفیدی یہ سِیاہی تیری دِل تڑپتا ہے تو کہتی ہیں یہ آنکھیں رو کر اب تو دیکھی نہیں جاتی ہے تباہی تیری کیا بَلا سے توُ ڈراتی ہے …مزید پڑھیں