فیض احمد فیض ( غزل )

نہ کسی پہ زخم عیاں کوئی، نہ کسی کو فکر رفوُ کی ہے نہ کرَم ہے ہم پہ حبیب کا، نہ نِگاہ ہم پہ عدُو کی ہےصَفِ زاہداں! ہے تو بے یقیں، صَفِ مے کشاں! ہے تو بے طلب نہ وہ صُبْح، وِرد و وضُو کی ہے، نہ وہ شام، جام و سبُو کی ہے​ …مزید پڑھیں